Islam main Mahabbat awr Adam-e-Tashaddud فضیلت درود و سلام( ) 1 : 2 : 3 : 4 : 5 : 6 : 7 : 8 :
It covers the religiosity
and reflects the soul's inner beauty and one's governing principles
🔹 اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ
ان میں سے ہر ایک کی شخصیت آسمان رشد و ہدایت پر جگمگاتے ہوئے ستاروں کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیفۂ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اَوصافِ حمیدہ کا یہ عالم کہ سرورِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: ’اپنی جان و مال (قربان کرنے) کے اعتبار سے ابو بکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر مجھ پر زیادہ احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘ خلیفۂ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں کہ جن کی موافقت میں وحی الٰہی نازل ہوتی اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘ خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا یہ عالم کہ انہوں نے بارہا زبانِ نبوت سے جنت کی نوید پائی اور جن کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’میری اُمت میں سب سے زیادہ حیادار عثمان بن عفان ہے۔‘ خلیفہ چہارم مولائے کائنات حضرت علی کرّم اﷲ وجہہ الکریم کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔‘ اور جن کی امامت و ولایت کا اِنکار اِعلان مصطفی ﷺ کا انکار ہے۔
and question the authenticity of the aforementioned statement of the Prophet
Noble conduct is called al-adab because it disciplines people towards all that is meritable and restrains them from the unworthy and superfluous
MinhajPublications
🔹 اللہ تعالیٰ بصیر ہے
زیر نظر کتابچہ اِسی کاوش کا حصہ ہے جس میں حضرت شیخ الاسلام مدظلہ نے قرآن و سنت اور کتبِ عقائد و فقہ کی روشنی میں غیر مسلم کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے اسلام کا دو ٹوک موقف واضح کر دیا ہے اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات سے رُوشناس کرا کے اسلام کے روشن چہرے پر لگے دہشت گردی کے بدنما داغ کو دھونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اُمید ہے اس کے مطالعے سے جملہ مسلم و غیر مسلم حلقوں کو دہشت گردی کے بارے میں اسلام کا نقطہءِ نظر سمجھنے میں مدد مل سکے گی، نیز غلط فہمی اور شکوک و شبہات کاازالہ ہو گا۔ اس وقت مغرب میں پرورش پانے والی مضطرب مسلم نوجوان نسل کو اِعتقادی، فکری اور عملی لحاظ سے درست رہنمائی ملے گی اور عالم مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور مخاصمت میں بھی کسی حد تک کمی آئے گی۔
حدیثِ ضعیف پر اٹھنے والے تمام تر اعتراضات اور اِشکالات کو ائمہ حدیث وفقہائے اسلام کے اقوال اور ان کے اپنے طرزِ عمل سے رد کرنے والی یہ کتاب اپنے قاری کو یہ بتاتی ہے کہ محض کسی حدیث کے بارے میں لفظ ضعیف وارد ہو جانا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اب یہ حدیث قابلِ اِستفادہ و احتجاج ہی نہیں رہی۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فضائلِ حرمین شریفین کے موضوع پر جس اچھوتے انداز سے قلم اٹھایا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کتاب میں حج اور عمرے کے فضائل اور ان کے مناسک پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مدینہ منورہ کی دیگر شہروں پر حرمت و تکریم کو آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ روضۂ رسول ﷺ کی زیارت اور مزارِ پُر نور کی حاضری کے آداب قرآن و حدیث، اَقوالِ اَسلاف اور اَہلِ سنت کے چاروں فقہی مذاہب کے اَئمہ کے اقوال کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ اِس پر مستزاد روضۂ رسول ﷺ اور منبرِ مبارک کی درمیانی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ والی حدیثِ مبارک کو متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کیا گیا ہے۔ بعد ازاں مکہ مکرمہ کے فضائل پر اور اس کی بے حرمتی کی ممانعت سے متعلق آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز رسولِ مکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مکہ مکرمہ سے وارفتگیِ قلب کے حسین جذبات کا بھی بھرپور اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام کے حجِ کعبہ کی ادائیگی کے تذکار اور ایک ہزار انبیاء کرام علیھم السلام کے مزارات کا اَحوال بھی تحقیقی انداز سے تحریر کیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ ایک ہزار سے زائد انبیاء کرام علیھم السلام کا سفرِ مکہ اور یہاں قیام کا مقصد صرف نبی آخر الزمان ﷺ کا شوقِ دیدار اور ان سے بے پناہ محبت کا بھرپور اظہار تھا۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات اَقدس کے ساتھ تعلقِ حُبی اُستوار کرنے کا ایک اہم ذریعہ نعت گوئی اور نعت خوانی ہے۔ اس سے آقا ﷺ کی ذاتِ اَقدس کے ساتھ مسلمان اپنا قلبی، عشقی، حبی اور ایمانی تعلق قائم کرتا ہے۔ اِس حوالے سے نعت خوانی مجرب، متحرک اور اَفضل ترین ذریعہ ہے۔