Arba‘in: Fadilat-e-Ziarat-e-Qubur تعلیم اور تعلم کی فضیلت و تکریم
🔹 باب 23 : کھانے، پینے کی دعائیں
🔹 رُجوع اِلی اللہ کے مسافروں کے لیے سب سے پہلا قدم کون سا ہے؟
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام و خواص دونوں کی علمی و فکری رہنمائی اور عقیدہ و عمل کی پختگی کے لیے احادیث مبارکہ سے خوب استفادہ کیا اور 100 کے قریب چھوٹے بڑے مجموعہ ہائے احادیث مرتب کیے۔ زیرِ نظر اربعین: ’اسمائے مصطفیٰ ﷺ‘ میں آقائے کائنات ﷺ کے مبارک اسماء سے متعلق 41 احادیثِ مبارکہ مع اُردو ترجمہ و کامل تحقیق و تخریج اور ضروری شرح جمع کی گئی ہیں۔
آج سے کچھ دہائیاں قبل جب بد اعتقادی کی بد لگام آندھیاں ہر سُو دندنا رہی تھیں۔ اس تاریک ماحول اور مکدّر فضا میں قوتِ ایمانی کمزور پڑ رہی تھی، قلبی کیفیات مسمار ہو رہیں تھیں اور اَذہان و قلوب کے آتش دانوں میں عشق و محبت کی حدت ٹھنڈی پڑ رہی تھی۔ بحمد اللہ
اِس کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِسی حسین سراپا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَعضاے جسمانی کی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ اندازِ بیان سادہ اور یوں مترتب ہے کہ پڑھنے والا یہ محسوس کرے گا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین سراپا اُس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
تصریف الماضی (فعل ماضی کی گردان)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی یہ تصنیف اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کیسے پُراَمن اور مثالی تعلقات قائم کیے جاسکتے ہیں۔ اس تصنیف کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں زیادہ تر انفرادی اور معاشرتی تعلقات کو موضوعِ بحث لایا گیا ہے، جبکہ دوسرے حصے میں شرعی لحاظ سے ممالک کی تقسیم کو واضح کیا گیا ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ یتیموں کے والی تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یتیم کی پرورش کرنے والا، اگرچہ وہ اُس کا رشتہ دار ہو یا نہ ہو، وہ اور میں جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ راوی (مالک) نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی ملا کر اشارہ کیا۔
🔹 اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا مالک ہے
🔹 روز قیامت بندے سے پہلا سوال نماز کا کیا جائے گا
🔹 حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کے آداب کیا ہیں؟
حضرات حسنین کریمین علیہما السلام کی ذات مبارکہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ وہ شہزادے ہیں جنہیں پہلی غذا کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک لعابِ دہن نصیب ہوا۔ یہ وہ مبارک نام ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کیا اور جو ان سے پہلے اس کائنات میں کسی کے نہیں رکھے گئے تھے۔ یہ وہ معزز سوار ہیں جنہیں راکبِ دوشِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے لیے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سجدے طویل کیے۔ جب رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک کے اَہلِ حق کو ان کی عظمت، فضیلت اور رتبہ کی انتہا دکھانا چاہی تو ارشاد فرما دیا: {الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃ} یعنی حسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔